پیر، 6 اپریل، 2015

حق بات


سیاست کرنا کوئی بری بات نہیں اگر حق بات پر کی جائے تو یہ ایک عبادت بھی ہے سیاست کا اصل مطلب یہی ہے کہ ایسی سرگرمیاں جنکے ذریعے معاشرے اور قوم میں بہتری آئے،مختلف عوامی ،علاقائی ،قومی اور بین الاقوامی مسائل پر بحث مباحثہ ہو ہو اس کے ذریعے عوامی مسائل کا حل تلاش کیا جائے،بری بات یہ ہے کہ سیاست کے ساتھ ،، سیاست ،، کی جائے۔یعنی لچھیدار تقریروں اور چھوٹے وعدوں کے ذریعے عوام کو سبز باغ دکھائے جائیں اور عوام کی بہتری نہیں بلکہ سیاستدان صرف اپنی بہتری کا خواہ ہاں ہو۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں سیاست کے ساتھ ،،سیاست ،،کی جاتی ہے۔ایک سیٹ کے حصول کے لیے اور دوسرے مدمقابل کو نیچا دکھانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں نامی گرامی انسانوں کو خریدا اور بیچا جاتا ہے، تاکہ ایک صاحب کی بلے بلے اور جئے جئے ہو جائے، یہ نہیں سوچا جاتا کہ اگر یہی کروڑوں روپیہ عوامی مسائل کے حل پر خرچ کر دیا جائے تو وہ سیٹ ویسے ہی پکی ہو جاتی ہے چونکہ ہمارے معاشرے کے سادہ لوح عوام اگر بغیر مسائل کے حل کے بھی کسی صاحب کو ہمیشہ اپنا مسیحا مانتے ہیں تو جب وہ کوئی چھوٹا موٹا کام اس علاقے کے عوام کی بھلائی کے لیے کروا دیگا تو پھر تو وہ کچھ اور ہی بن جائے گا۔ مگر نہیں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی،چونکہ جنگ صرف کرسی کی ہوتی ہے ،عوام کو قبیلوں اور برادریوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ اجتماعی طور پر اپنے مسائل کی جانب کوئی توجہ ہی نا دے سکیں اور صاحب اپنی موج مستی میں لگے رہیں۔وہی بڑے صاحب جو اپنے آپکو عقل قل سمجھتے ہیں اوردوران الیکشن اپنے عوام کے سامنے اپنے آپکو انکا مسیحا بنا کر پیش کرتے ہیں جب الیکشن جیت کر جس میں عوام نے ووٹ تو ڈالے ہوتے ہیں مگر سودہ پہلے سے ہو چکا ہوتا ہے وہ صاحب جب اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں تو اپنے ووٹر سے آئندہ تک کے لیے انکا کوئی تعلق نہیں رہتا وجہ یہ ہوتی ہے کہ چونکہ انھوں نے کروڑوں خرچ کیے ہوتے ہیں عرصہ مختصرہوتا ہے جس میں اصل رقم ہی نہیں بلکہ سود سمیت کمانا ہوتا ہے پھر ان سب کو بھی راضی کرنا ہوتا ہے جنہوں نے صاحب کے کامیابی کے لیے محنت کی ہوتی ہے لوگوں کو صاحب کے حق میں جئے جئے کے نعرے لگوانے کے لیے سڑکوں پر لایا ہوتا ہے آخر انکی بھی محنت ہے پھل تو ملے گا ہی نا اور یہ پھل ہمارے معاشر میں صرف سیاست میں ہی ملتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشر میں لوگ سیاست میں کافی محنت کرتے ہیں۔عوام سے جھوٹے وعدے کرنا انکی عادت بن چکی ہے،سیاست کے ساتھ،، سیاست،، انکا پسندیدہ کھیل ہے،جب اچھے کھلاڑی بن جاتے ہیں تو پھر اپنی منہ مانگی قیمت وصول کر لیتے ہیں گویا انھیں انکی محنت کا پھل مل گیا،جب ہم کسی جانور کو بڑے پیار سے پالتے ہیں تو اسے فروخت کرتے وقت اسکی قیمت ہم خود لگاتے ہیں چونکہ وہ جانور بے زبان ہوتا ہے،چلو یہ کم از کم اپنی قیمت تو خود لگا دیتے ہیں،ہمارے سیاسی لیڈر سیاست، سیاست کھلتے ہیں عوام تماشائی ہوتے ہیں کھلاڑیوں کو خوب داد دیتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے لیے اپنی جان بھی دے دیتے ہیں ان بیچاروں کا کام ہی بس داد دینا اور جانیں دینا ہوتا ہے، اور جس سیاسی کھلاڑی کا مکاری، جھوٹ فریب،وعدہ خلافی میں زیادہ تجربہ ہوتا ہے جو ماہر مکار ہوتا ہے وہ میچ جیت جاتا ہے اور عوام جو صرف تماشائی ہوتے ہیں اسے داد دیکر واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں چونکہ کھیل تو ختم ہو گیا ان بچاروں نے صبح پھر دیہاڑی لگانی ہے تاکہ شام کو بچوں کا پیٹ بھر سکیں،پھر وہی معمول ،اور آئندہ کے لیے کسی نئے تجربہ کار کھلاڑی کا انتظار ، جو نئے منصوبے لیکر میدان میں اترے گا،یہی عوام پھر اسکے بلے بلے اور جئے جئے کے نعرے لگائیں گے،وہ تماشہ لگائے گا عوام کا دل بھلائے گا اور اپنا مقصد پورا کر کے چلا جائے گا، ،، آخر کب تک ؟،،

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں