جمعہ، 10 اپریل، 2015

جمہوریت اور ووٹ

                                                    

جمہوریت میں ووٹ تبدیلی کی علامت ہوتا ہے جب کسی جمہوری معاشرے کے عوام ووٹ دیتے ہیں تو اسکی اہمیت ہوتی ہے گویا ووٹ کا بیلٹ پیپر ووٹ دالنے والے کے ضمیر کی آواز ہوتی ہے جس امیدوار کو ووت دیا جاتا ہے وہ اپنے ووٹر کے ضمیر کی آواز کی حفاظت کرتا ہے۔یہ سب صرف حقیقی جمہوری معاشرے میں ہوتا ہے جہاں ووٹ برادری، قبیلے یا علاقے کو دیکھ کر نہیں دیا جاتا بلکہ انتخابی منشور اور عوامی ضرورت کو دیکھ کر دیا جاتا ہے۔مگر ہمارے معاشرے میں یہ ریت ابھی تک تو اپنائی نا جا سکی اور جس راستے پر ہمارے سیاستدان قوم کو لے جا رہے ہیں فلحال جلدی کوئی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے۔چونکہ ہمارے معاشرے میں ددٹ تو ووٹر دیتے ہیں کبھی قبیلہ ازم کے بنیاد پر ،کبھی علاقہ ازم اور کبھی برادری ازم کی بنیاد پر ۔ہم کبھی بھی کسی منشور یا عوامی ضرورت کو مدنظر نہیں رکھتے چونکہ ماما جی، تایا جی، کزن، نمبردار صاحب، چوہدری صاحب، راجہ صاحب ، خواجہ صاحب یا سردار صاحب ہمارے امیدوار ہوتے ہیں،جس کی اپنے علاقے میں زیادہ بدقماشی ہوتی ہے وہ الیکشن جیت کر لوٹ کسھوٹ میں لگ جاتا ہے۔ہم خود اسے یہ لائسنس دے دیتے ہیں کہ پانچ سال کے لیے آپ ہمارے حقوق کے ڈاکو ہو۔دوسری جانب چونکہ فیصلہ عوام کے ووٹ کی طاقت سے نہیں بلکہ ایک خوبصورت بریف کیس کی طاقت سے ہوا ہوتا ہے جس کی جگہ آنیوالے وقت میں کئی بریف کیسوں نے لینی ہوتی ہے لہذا عوام کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ لائن میں لگیں اور اپنی پرچی ڈبے میں ڈال کر چلے جائیں۔
خدا خبر ہمارے معاشرے کے سادہ لوح عوام اپنی اس چھوٹی سی پرچی کی اہمیت کو کب سمجھ سکیں گے اس پرچی کو اپنے ضمیر کی آواز کب بنا سکیں گے۔ انکے لیڈر کب انکے ضمیر کی آواز کے محافظ بنیں گے۔وہ وقت کب آئے گا جب طاقت صرف پرچی کی ہو گی بریف کیس کی نہیں۔یہ سوچنا شاہد انھیں کا کام ہے جو پرچی تو ڈال دیتے ہیں مگر انکے ضمیر کی آواز کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔کیا ہم کبھی یہ سوچنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ ووٹ کا استعمال تبدیلی کے لیے دیا جائے اور وہ تبدیلی چہروں کی تبدیلی نا ہو بلکہ کرپٹ نظام کی تبدیلی کے لیے ہو ،قبیلائی ازم، علاقائی ازم اور برادری ازم سے چھٹکارے کے لیے ہو۔عوامی مسائل کے حل کے لیے ہو،بہتر تعلیمی سہولتوں کے حصول، اور بہتر علاج معالجہ کی سہولت کے حصول کے لیے ہو۔اور عوام کے ضمیر کی آواز کی حفاظت کرنے والے ہی عوامی نمائندے ہوں،یہ تنھی ہو سکتا ہے جب عوام بیرونی آقاؤوں کے چرنوں کو چھونے والوں اور بیرونی آقاؤوں کے اشاروں پر ناچنے والوں کر مسترد کرینگے اور اپنا فیصلہ خود کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں