تحریر و تحقیق : کبیر احمد
جدید ٹیکنالوجی نے ہماری سوشل لائف کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیا ہے۔انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال نے ہمیں اپنے اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور یہاں تک کے چلتی پھرتی زندگی میں اپنے موبائل فون تک محدود کر کے رکھا ہوا ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہو رہا۔گو کے انٹر نیٹ اور مختلف سوشل میڈیا پر ہمارے سینکڑوں دوست بن جاتے ہیں مگر ہم قریب سے انکے واقف نہیں ہوتے یہاں تک کے اکثر ہم اپنے ان سوشل سائٹ کے دوستوں کے اصل محل وقوع سے بھی نا بلد ہوتے ہیں۔ہم حقیقت میں لفظ ،،دوست،، کے اصل مہفوم کو سمجھے بغیر ہی سوشل میڈیا کے دوستوں کی لسٹ میں اضافہ کرتے جاتے ہیں یوں ہم اپنے قریبی دوستوں ،ہمدردوں اور پیاروں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی پر شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے بے انتہا استعمال نے ہمارے رویوں میں تبدیلی لائی ہے اور ہمیں اپنی ذات تک محدود کر دیا ہے ۔ہم سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں رابطے رکھتے ہیں مگر اپنے پیاروں اور پڑوسیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔مگر ایک مشہور مصنف اور محقق ،، بالا جی سرینیواسن،، نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے لوگوں کو ایک مقام پر جمع کر دیا ہے انکی تحقیق کے مطابق روزانہ سینکڑوں ملین لوگ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھکر دوسرے کونے میں بسنے والوں سے رابطہ میں رہتے ہیں اپنے کام کے دوران اور کہیں سے بھی گھنٹوں انٹرنیٹ پر صرف کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کے ،، ہم ہزاروں میل دور تو رابطے میں رہتے ہیں مگر اپنے پڑوسیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے،،یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب تو لایا ہے مگر ساتھ ہی قریب رہنے والوں سے دور کر دیا ہے ۔
دوسری جانب ایک امریکن تحقیق میں اس بات کو مسترد کیا گیا ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے لوگوں کو محدود نہیں کیا بلکہ انسان کی سوشل لائف کو وسیع کر دیا ہے ،پو انٹرنیٹ اینڈ امریکن لائف پروجیکٹ،، نے اپنے مطالعہ،، سوشل آئی سولیشن اینڈ نیو ٹیکنالوجی،، میں اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انھوں نے ایسے لوگوں کو تلاش کیا جو موبائل فون اور سوشل نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں وہ سوشل لائف میں زیادہ وسیع نیٹ ورک کے ساتھ وابسطہ ہیں اور منظم بھی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جو لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ وسیع سوشل لائف کے حامل ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بھی انٹرنیٹ کا استعمال خاصہ عام ہے اب اس کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے یہ ہم پر منحصر ہے ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں خصوصی طور پر سوشل نیٹ ورک کے استعمال کو ہم کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔وہ مقصد انسانیت کی بھلائی بھی ہو سکتا ہے اور انسانیت کے لیے دکھ تکلیف اور پریشانی کا باعث بھی۔میں نے ذاتی طور پر جب جدید ٹیکنالوجی مختصر سی تحقیق کی کوشش کی تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ گلوبلائزڈ دنیا میں ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو ایک جدید ترین اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔جہاں ہماری روزانہ زندگی کا ہر حصہ کسی نا کسی طرح ٹیکنالوجی سے وابسطہ ہی نہیں بلکہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت بھی ہے۔پرانے دور کے مقابلے میں ہمارے پاس بہتر سہولتیں موجود ہیں جو صرف اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہیں۔زندگی کے کسی بھی شعبہ میں ٹیکنالوجی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا مگر ساتھ ہی میرا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے جہاں مثبت نتایج ہیں وہاں کچھ منفی اثرات بھی ہیں۔جیسے کہ موبائل ٹیکنالوجی کو ہی لیجیے جس کے استعمال سے ہم ہزاروں میل دور رہنے والے اپنے دوست احباب اور پیاروں ست رابطے میں رہتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی موبائل ہی ہے جس کے غلط استعامل سے کئی گھروانے تباہ ہوئے یا تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے۔انٹر نیٹ کی مدد سے ہم نئی چیزین سیکھ سکتے ہیں پڑھ سکتے ہیں مگر اسی انٹر نیٹ کے استعامل سے دنیا میں دہشت گردی کو بھی ہوا دی جاتی ہے۔ایوی ایشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم دنیا کے دور دراز حصوں میں صرف چند گھنٹو ں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں پہلے ایک طویل مدت لگتی تھی۔ہم تمام موجود زرائع استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنی زندگی کو سہل بنا سکیں ٹیکنالوجی سے پہلے ایسا ممکن نہیں تھا چونکہ زرائع محدود تھے۔سوشل نیٹ ورک کے استعامل سے ہم اپنے بچپن کے دوستوں کو اور اپنے رشتہ داروں کو تلاش کر سکتے ہیں اور انکی زندگی میں رونما ہونے والے اہم واقعات کے بارے میں فوری طور پر جان سکتے ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم دنیا بھر میں خاص انفارمیشن اور اپنے پیغامات کو شئیر کر سکتے ہیں جبکہ چکھ ہی عرصہ قبل تک اگر ایک گاؤں میں کسی کی موت واقع ہو جاتی تھی تو دوسرے گاؤں والوں تک یہ خبر ہفتوں بعد ہی پہنچتی تھی۔ زراعت کے میدان میں پروگرسیو ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم دنیا بھر کے انسانوں کی خوراک کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب جدید ٹیکنالوجی کے کچھ منفی اثرات بھی موجودہ سوسائٹی پر پرے ہیں۔جنہیں نذر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر ٹیکنالوجی نے ایک مشکل کو حل کیا ہے تو دوسری مشکل کو جنم دیا ہے۔اب موبائل ہی کو دوبارہ لیجیے ! پہلے لوگ اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے انکے دکھ درد میں حصہ دار بننے خود بانفس نفیس اپنے پیاروں کے پاس کسی نا کسی طرح پہنچ ہی جاتے تھے مگر جدید ٹیکنالوجی نے ان تمام محبتوں اور چاہتوں کو صرف ایک ایس ایم ایس تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔انٹر نیٹ پر آن لائن کھیلوں نے بچوں کو صرف کمپیوٹر تک محدود کر دیا ہے اور بچے فزیکلی کسی مثبت سرگرمی یا کھیل میں شاذونادر ہی حصہ لیتے ہیں جو بچوں کی صحت کے لیے مظہر ہے ۔اسی طرح سوشل نیٹ ورک کے استعمال سے قریبی دوستوں میں دوریاں بڑھ رہی ہیں اور طلاق کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔جس کی وجہ سے سوسائٹی میں رویوں میں سختی آئی ہے اور اخلاقیات نا پید ہوتی جا رہی ہیں۔ایوی ایشن ٹیکنالوجی نے مختلف کمپنیوں کے ملازمین میں انتہائی خطرناک بیماریوں کو جنم دیا ہے اور انکے صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ماحول آلودہ ہوتا جا رہا ہے اور صاف ماھول کو سخت قسم کے خطرات درپیش ہیں۔
میں اپنی مختصر سی تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دو رخ ہیں اس کے ہماری زندگیوں پر انتہائی مثبت اثرات بھی ہیں اور انتہائی منفی اثرات بھی۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کو کس طرح اور کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اگر ہم ٹیکنالوجی کو مثبت کاموں کے لیے استعمال کرینگے تو اسکے نتائج بھی مثبت ہونگے اس کے برعکس اگر ہم جدید ٹیکنالوجی کو ایک کھلونا سمجھتے ہوئے اسے منفی چیزوں کے لیے استعمال کرینگے تو اس کے اثرات لامحالہ منفی ہی ہونگے۔کوئی بھی باشعور انسان ٹیکنالوجی کی ڈولپمنٹ کو مسترد نہیں کر سکتا مگر یہ ڈولپمنٹ مثبت ہونی چاہیے جس سے ہماری موجدہ اور آنیوالی نسلوں پر کوئی منفی اثر نا پڑھ سکے۔ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اپنی آنیوالی نسلوں کو بھی محفوظ کرنا ہے
جدید ٹیکنالوجی نے ہماری سوشل لائف کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیا ہے۔انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال نے ہمیں اپنے اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور یہاں تک کے چلتی پھرتی زندگی میں اپنے موبائل فون تک محدود کر کے رکھا ہوا ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہو رہا۔گو کے انٹر نیٹ اور مختلف سوشل میڈیا پر ہمارے سینکڑوں دوست بن جاتے ہیں مگر ہم قریب سے انکے واقف نہیں ہوتے یہاں تک کے اکثر ہم اپنے ان سوشل سائٹ کے دوستوں کے اصل محل وقوع سے بھی نا بلد ہوتے ہیں۔ہم حقیقت میں لفظ ،،دوست،، کے اصل مہفوم کو سمجھے بغیر ہی سوشل میڈیا کے دوستوں کی لسٹ میں اضافہ کرتے جاتے ہیں یوں ہم اپنے قریبی دوستوں ،ہمدردوں اور پیاروں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی پر شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے بے انتہا استعمال نے ہمارے رویوں میں تبدیلی لائی ہے اور ہمیں اپنی ذات تک محدود کر دیا ہے ۔ہم سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں رابطے رکھتے ہیں مگر اپنے پیاروں اور پڑوسیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔مگر ایک مشہور مصنف اور محقق ،، بالا جی سرینیواسن،، نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے لوگوں کو ایک مقام پر جمع کر دیا ہے انکی تحقیق کے مطابق روزانہ سینکڑوں ملین لوگ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھکر دوسرے کونے میں بسنے والوں سے رابطہ میں رہتے ہیں اپنے کام کے دوران اور کہیں سے بھی گھنٹوں انٹرنیٹ پر صرف کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کے ،، ہم ہزاروں میل دور تو رابطے میں رہتے ہیں مگر اپنے پڑوسیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے،،یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب تو لایا ہے مگر ساتھ ہی قریب رہنے والوں سے دور کر دیا ہے ۔
دوسری جانب ایک امریکن تحقیق میں اس بات کو مسترد کیا گیا ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے لوگوں کو محدود نہیں کیا بلکہ انسان کی سوشل لائف کو وسیع کر دیا ہے ،پو انٹرنیٹ اینڈ امریکن لائف پروجیکٹ،، نے اپنے مطالعہ،، سوشل آئی سولیشن اینڈ نیو ٹیکنالوجی،، میں اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انھوں نے ایسے لوگوں کو تلاش کیا جو موبائل فون اور سوشل نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں وہ سوشل لائف میں زیادہ وسیع نیٹ ورک کے ساتھ وابسطہ ہیں اور منظم بھی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جو لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ وسیع سوشل لائف کے حامل ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بھی انٹرنیٹ کا استعمال خاصہ عام ہے اب اس کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے یہ ہم پر منحصر ہے ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں خصوصی طور پر سوشل نیٹ ورک کے استعمال کو ہم کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔وہ مقصد انسانیت کی بھلائی بھی ہو سکتا ہے اور انسانیت کے لیے دکھ تکلیف اور پریشانی کا باعث بھی۔میں نے ذاتی طور پر جب جدید ٹیکنالوجی مختصر سی تحقیق کی کوشش کی تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ گلوبلائزڈ دنیا میں ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو ایک جدید ترین اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔جہاں ہماری روزانہ زندگی کا ہر حصہ کسی نا کسی طرح ٹیکنالوجی سے وابسطہ ہی نہیں بلکہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت بھی ہے۔پرانے دور کے مقابلے میں ہمارے پاس بہتر سہولتیں موجود ہیں جو صرف اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہیں۔زندگی کے کسی بھی شعبہ میں ٹیکنالوجی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا مگر ساتھ ہی میرا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے جہاں مثبت نتایج ہیں وہاں کچھ منفی اثرات بھی ہیں۔جیسے کہ موبائل ٹیکنالوجی کو ہی لیجیے جس کے استعمال سے ہم ہزاروں میل دور رہنے والے اپنے دوست احباب اور پیاروں ست رابطے میں رہتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی موبائل ہی ہے جس کے غلط استعامل سے کئی گھروانے تباہ ہوئے یا تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے۔انٹر نیٹ کی مدد سے ہم نئی چیزین سیکھ سکتے ہیں پڑھ سکتے ہیں مگر اسی انٹر نیٹ کے استعامل سے دنیا میں دہشت گردی کو بھی ہوا دی جاتی ہے۔ایوی ایشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم دنیا کے دور دراز حصوں میں صرف چند گھنٹو ں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں پہلے ایک طویل مدت لگتی تھی۔ہم تمام موجود زرائع استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنی زندگی کو سہل بنا سکیں ٹیکنالوجی سے پہلے ایسا ممکن نہیں تھا چونکہ زرائع محدود تھے۔سوشل نیٹ ورک کے استعامل سے ہم اپنے بچپن کے دوستوں کو اور اپنے رشتہ داروں کو تلاش کر سکتے ہیں اور انکی زندگی میں رونما ہونے والے اہم واقعات کے بارے میں فوری طور پر جان سکتے ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم دنیا بھر میں خاص انفارمیشن اور اپنے پیغامات کو شئیر کر سکتے ہیں جبکہ چکھ ہی عرصہ قبل تک اگر ایک گاؤں میں کسی کی موت واقع ہو جاتی تھی تو دوسرے گاؤں والوں تک یہ خبر ہفتوں بعد ہی پہنچتی تھی۔ زراعت کے میدان میں پروگرسیو ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم دنیا بھر کے انسانوں کی خوراک کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب جدید ٹیکنالوجی کے کچھ منفی اثرات بھی موجودہ سوسائٹی پر پرے ہیں۔جنہیں نذر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر ٹیکنالوجی نے ایک مشکل کو حل کیا ہے تو دوسری مشکل کو جنم دیا ہے۔اب موبائل ہی کو دوبارہ لیجیے ! پہلے لوگ اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے انکے دکھ درد میں حصہ دار بننے خود بانفس نفیس اپنے پیاروں کے پاس کسی نا کسی طرح پہنچ ہی جاتے تھے مگر جدید ٹیکنالوجی نے ان تمام محبتوں اور چاہتوں کو صرف ایک ایس ایم ایس تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔انٹر نیٹ پر آن لائن کھیلوں نے بچوں کو صرف کمپیوٹر تک محدود کر دیا ہے اور بچے فزیکلی کسی مثبت سرگرمی یا کھیل میں شاذونادر ہی حصہ لیتے ہیں جو بچوں کی صحت کے لیے مظہر ہے ۔اسی طرح سوشل نیٹ ورک کے استعمال سے قریبی دوستوں میں دوریاں بڑھ رہی ہیں اور طلاق کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔جس کی وجہ سے سوسائٹی میں رویوں میں سختی آئی ہے اور اخلاقیات نا پید ہوتی جا رہی ہیں۔ایوی ایشن ٹیکنالوجی نے مختلف کمپنیوں کے ملازمین میں انتہائی خطرناک بیماریوں کو جنم دیا ہے اور انکے صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ماحول آلودہ ہوتا جا رہا ہے اور صاف ماھول کو سخت قسم کے خطرات درپیش ہیں۔
میں اپنی مختصر سی تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دو رخ ہیں اس کے ہماری زندگیوں پر انتہائی مثبت اثرات بھی ہیں اور انتہائی منفی اثرات بھی۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کو کس طرح اور کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اگر ہم ٹیکنالوجی کو مثبت کاموں کے لیے استعمال کرینگے تو اسکے نتائج بھی مثبت ہونگے اس کے برعکس اگر ہم جدید ٹیکنالوجی کو ایک کھلونا سمجھتے ہوئے اسے منفی چیزوں کے لیے استعمال کرینگے تو اس کے اثرات لامحالہ منفی ہی ہونگے۔کوئی بھی باشعور انسان ٹیکنالوجی کی ڈولپمنٹ کو مسترد نہیں کر سکتا مگر یہ ڈولپمنٹ مثبت ہونی چاہیے جس سے ہماری موجدہ اور آنیوالی نسلوں پر کوئی منفی اثر نا پڑھ سکے۔ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اپنی آنیوالی نسلوں کو بھی محفوظ کرنا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں