تحقیق : کبیر احمد، ناٹنگھم، برطانیہ
ایک صحافی کا کام حقائق کو سامنے لانا ہوتا ہے وہ کسی کا آلہ کار نہیں ہوتا ،نا ہی اسے کسی ایک جانب جھکنا چاہیے،جہاں قلم آزاد ہو وہاں انصاف کا ملنا آسان سمجھا جاتا ہے قلم کی طاقت سے صحافی اپنے ملک کے عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔شرط صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ قلم کے سچے سپاہی ثابت ہوں ،دوسری جانب کسی بھی ملک کی حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ صحافیوں کی جان کو درپیش خطرات کے پیش نظر انھیں مکمل سکیورٹی فراہم کرے۔مگر حالیہ دور میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی بھی حکومت صحافی برادری کو مکمل سکیورٹی دینے میں کامیاب نہیں ہوئی یا پھر اس جانب بھرپور توجہ ہی نہیں دی گئی، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں دنیا نے مختلف ممالک میں بہت ہی قابل صحافیوں کو کھو دیا ہے۔اگر ہم صرف گزشتہ سال کا سرسری جائزہ لیں تو مختلف صحافتی تنظیموں کی جانب سے شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق سال دو ہزار چودہ میں شام صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ثابت ہوا ہے جہاں اسلامک اسٹیٹ کے بندوق برداروں نے صرف ایک سال کے عرصہ میں گزشتہ تین سالوں کی نسبت زیادہ تعداد میں صحافیوں کو قتل کیا ۔جن میں ہر دس میں سے نو مقامی صحافی قتل کیے گئے۔صرف دو ہزار چودہ کے سال میں دنیا میں ساٹھ جرنلسٹس قتل ہوئے۔جبکہ دو ہزار پندرہ کے پہلے تین ماہ میں سترہ جرنلسٹس کو قتل کیا گیا۔صرف شام میں دو ہزار چودہ میں سترہ جرنلسٹس قتل ہوئے جبکہ جب سے شام میں فسادات شروع ہوئے ہیں ٹوٹل ۷۹( نواسی) جرنلسٹس قتل ہو چکے ہیں۔یوں دوہزار چودہ کے رپورٹ میں شام کو جرنلسٹس کے لیے خطرباک ترین ملک قرار دیا گیا ہے تحقیقاتی اداروں ( جن میں نیشنل یونین آف جرنلسٹس ( این یو جے )یو کے، کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس(سی پی جے)کینیڈین ایسوسی ایشن آف جرنلسٹس( سی اے جے)، بی بی سی، حقوق انسانی کی مختلف تنظیموں جن میں پاکستان ہیومن رائٹس اور دیگر کئی آرگنائزشنز شامل ہیں) ۔ نے اپنی اپنی تحقیقاتی رپورٹوں میں کہا کہ کے شام میں اتنی زیادہ تعداد میں صحافیوں کے قتل نے فلپین کو صحافیوں کے لیے خطرناک ممالک کی لسٹ میں دوسرے نمبر پر دکھیل دیا ہے ۔سی پی جے کے رپورٹ کے مطابق یوکرین میں گزشتہ سال پانچ جرنلسٹس جبکہ دو میڈیا ورکرز کو قتل کیا گیا ۔ترکی میں ایک جرنلسٹ قتل ہوا۔جبکہ پاکستان جسے کئی سالوں سے صحافیوں کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جاتا رہا ہے ابھی تک جرنلسٹس کے لیے خطرناک ترین ممالک کی لسٹ میں شامل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قتل ہونے والے جرنلسٹس میں سے سب سے زیادہ تعداد براڈکاسٹ جرنلسٹس کی ہے جبکہ کیمرہ مین اور فوٹوگرافرز کی تعداد دوسرے نمبر پر آتی ہے ۔گزشتہ تین سالوں میں قتل ہونے والے جرنلسٹوں میں نصف سے زیادہ صرف دوہزار چودہ میں قتل ہوئے۔انٹرنیشنل فڈریشن آف جرنلسٹس نے بھی اپنے رپورٹ میں ان تمام رپورٹس کی تصدیق کی ہے۔جس میں انھوں نے پاکستان میں ایکسپریس ٹی وی کے قتل ہونے والے وقاص عزیز، خالد خان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس موقع پر پولیس نے سترہ فائرڈ بولٹ دریافت کیے ۔روزنامہ زمان کوئٹہ کے افضل خواجہِ، روزنامہ محاسب کے فوٹو گرافر، ابرار تنولی، ایک ٹی وی پرزنٹر کے ڈرائیور محمد مصطفی،سما ٹی وی کے شہزاد اقبال،اے آر وائی کوئٹہ کے ارشاد مستوئی،دنیا نیوز کے یعقوب شہزاد،دھرتی ٹی وی کے جیون آرائیں کے قتل کا خصوصی ذکر کیا ۔
رپورٹ کے مطابق دو ہزار چودہ میں زیادہ تر صحافیوں کو دنیا کے ایسے خطوں میں قتل کیا گیا جو جنگ زدہ علاقے ہیں، افغانستان، یوکرین اور وسط ایشیا کو بھی صحافیوں کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ممالک جو جنگ زدہ ہیں اور کنفلکٹ کا شکار ہیں وہاں مغربی صحافیوں کو زیادہ تر ٹارگٹ کیا گیا ہے جن میں سے اکثر انٹرنیشنل پریس کے باقاعدہ ممبران تھے۔دو ہزار چوہدرہ میں دنیا کے مختلف ممالک میں ساٹھ صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔جن میں سے صرف شام میں سترہ صحافیوں کا قتل ہوا۔جبکہ جب سے شام میں فسادات شروع ہوئے اس وقت یعنی دو ہزار گیارہ سے دو ہزار چوہدرہ تک شام میں ٹوٹل ۷۹ جرنلسٹس قتل ہو چکے ہیں۔ اس طرح شام کو صحافیوں کے لیے دنیا کا خظرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے جبکہ فلپین دوسرے نمبرپرہے۔یوکرین میں دو ہزار ایک کے بعد گزشتہ سال پانچ جرنلسٹس اور دو مےٖیا سے وابسطہ دیگر افراد کا قتل ہوا جو اس تمام عرصہ میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔ترکی میں میڈیا سے وابسطہ پہلا کارکن قادر بغدو جو کے پرو کردش گردانا جاتا تھا گزشتہ سال قتل ہوا۔جبکہ دس صحافیوں کو انٹی اسٹیسٹ قرار دیکر جیلوں میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔کمیٹی تو پروٹکٹ جرنلسٹس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں گزشتہ تین سالوں کو دنیا بھر میں جرنلسٹس کے لیے افسوسناک قرار دیا ہے۔
دو ہزار چودہ میں مارے جانے والے صحافیوں میں سے نصف وسط ایشیا میں مارے گئے جن میں سے اڑتیس فیصدکراس فائر کا نشانہ بنے۔سب سے زیادہ وہ صحافی قتل ہوئے جن کا تعلق براڈکاسٹ جرنلازم سے تھا۔پینتیس فیصد فوٹو فراگر اور ستایس فیصد کیمرہ مین قتل ہوئے۔
کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس کی ایک دوسری رپورٹ جس کی تصدیق انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے بھی کی ہے کہ مطابق چین دینا کا وہ ملک ہے جس مین سب سے زیادہ جرنلسٹس جیلوں میں ہیں۔جہاں دو سو سے زیادہ جرنلسٹوں کو جیلوں میں بند کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق دو ہزار چودہ میں دنیا میں دو سو اکیس صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا جن میں سے دو سو صرف چین میں گرفتار ہوئے۔ان میں سے اکیس ایسے ہیں جنہیں انٹی اسٹیٹ قرار دیا گیا ہے۔جبکہ ایران میں دس صحافی جیلوں میں بند ہیں ۔رپورٹ کے مطابق آریٹریا،اتھوپیا،ویتنام، شام ،مصر،برما،آزربئجان اور ترکی دنیا کے ایسے دس سرفہرست ممالک میں شامل ہیں جہاں صحافیوں کو جیلوں میں پابند سلال کیا گیا ہے۔ان گرفتار صحافیوں کی لسٹ میں صرف ایسے صحافی شامل ہیں جو کسی بھی حکومتی طویل میں ہے جبکہ وہ شامل نہیں جو کسی بھی دوسرے گروپ کی طویل میں ہیں۔آریٹریا اس لسٹ میں تیسر نمبر پر ہے جہاں تہیس صحافی گرفتار ہیں۔رپورٹ کے مطابق گرفتار شدہ صحافیوں میں سے ایک سو بتیس یا ساٹھ فیصد کو انٹی اسٹیٹ قرار دیکر جیلوں میں مبحوس کر دیا گیا ہے۔اس رپورٹ سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی صحافیوں کو مکمل سکیورٹی اور تحفظ حاصل نہیں
یوں تو کہا جاتا تھا کہ مغرب میں صحافی آزاد ہیں اور انھیں مکمل تحفظ حاصل ہے مگر اس سال کے آغاز پر ہی فرانس میں ایک جریدے پر حملے نے جس میں ایک درجن سے زیادہ بڑے صحافیوں اور دیگر افراد کو قتل کیا گیا کے بعد اب لگتا ہے کہ یورپ میں بھی صحافیوں کو وہ تحفظ حاصل نہیں جس کی انھیں ضرورت ہے۔
دنیا بھر میں قائم حکومتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نا صرف اپنے صحافیوں کو بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ایسے جرنلسٹس کو بھی جو اس ملک میں اپنے صحافتی فرائض انجام دے رہے ہیں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں صحافی مختلف اداروں اور دہشت گردوں کے لیے سینڈوچ بنے ہوئے ہیں ،حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صرف اپنے من پسند صحافیوں کو ہی نہیں بلکہ تمام صحافتی برادری کو سکیورٹی اور مکمل تحفظ فراہم کرے ،دوسری جانب صحافتی برادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قلم اور اپنے پیشہ کو صرف حق اور سچ عوام کے سامنے لانے کے لیے استعمال کریں دوسروں کے اہلکار نا بنیں ، قلم کی حرمت کا پاس رکھیں ۔
یاد رکھیے اگر ایک صحافی حق اور سچ کی راہ پر چلتا ہے وہ اپنے فرائض منصبی بطریق احسن انجام دے رہا ہے تو وہ اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے یوں ایک سچا صحافی دنیا بھر میں قیام امن کے لیے وہ تمام کام صرف اپنے قلم سے آسانی سے کر سکتا ہے جو ایک بڑی جدید اسلحہ سے مسلح طاقتور فوج بھی نہیں کر سکتی۔اگر دنیا بھر کی حکومتیں اپنے صحافیوں کو مکمل تحفظ دیں انھیں غیر جانبدار رہتے ہوئے آزادی سے کام کرنے دیں تو صحافی برادری دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں