جمعہ، 29 مئی، 2015
پیر، 18 مئی، 2015
جدید ٹیکنالوجی اور ہماری سوشل زندگی
تحریر و تحقیق : کبیر احمد
جدید ٹیکنالوجی نے ہماری سوشل لائف کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیا ہے۔انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال نے ہمیں اپنے اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور یہاں تک کے چلتی پھرتی زندگی میں اپنے موبائل فون تک محدود کر کے رکھا ہوا ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہو رہا۔گو کے انٹر نیٹ اور مختلف سوشل میڈیا پر ہمارے سینکڑوں دوست بن جاتے ہیں مگر ہم قریب سے انکے واقف نہیں ہوتے یہاں تک کے اکثر ہم اپنے ان سوشل سائٹ کے دوستوں کے اصل محل وقوع سے بھی نا بلد ہوتے ہیں۔ہم حقیقت میں لفظ ،،دوست،، کے اصل مہفوم کو سمجھے بغیر ہی سوشل میڈیا کے دوستوں کی لسٹ میں اضافہ کرتے جاتے ہیں یوں ہم اپنے قریبی دوستوں ،ہمدردوں اور پیاروں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی پر شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے بے انتہا استعمال نے ہمارے رویوں میں تبدیلی لائی ہے اور ہمیں اپنی ذات تک محدود کر دیا ہے ۔ہم سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں رابطے رکھتے ہیں مگر اپنے پیاروں اور پڑوسیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔مگر ایک مشہور مصنف اور محقق ،، بالا جی سرینیواسن،، نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے لوگوں کو ایک مقام پر جمع کر دیا ہے انکی تحقیق کے مطابق روزانہ سینکڑوں ملین لوگ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھکر دوسرے کونے میں بسنے والوں سے رابطہ میں رہتے ہیں اپنے کام کے دوران اور کہیں سے بھی گھنٹوں انٹرنیٹ پر صرف کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کے ،، ہم ہزاروں میل دور تو رابطے میں رہتے ہیں مگر اپنے پڑوسیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے،،یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب تو لایا ہے مگر ساتھ ہی قریب رہنے والوں سے دور کر دیا ہے ۔
دوسری جانب ایک امریکن تحقیق میں اس بات کو مسترد کیا گیا ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے لوگوں کو محدود نہیں کیا بلکہ انسان کی سوشل لائف کو وسیع کر دیا ہے ،پو انٹرنیٹ اینڈ امریکن لائف پروجیکٹ،، نے اپنے مطالعہ،، سوشل آئی سولیشن اینڈ نیو ٹیکنالوجی،، میں اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انھوں نے ایسے لوگوں کو تلاش کیا جو موبائل فون اور سوشل نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں وہ سوشل لائف میں زیادہ وسیع نیٹ ورک کے ساتھ وابسطہ ہیں اور منظم بھی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جو لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ وسیع سوشل لائف کے حامل ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بھی انٹرنیٹ کا استعمال خاصہ عام ہے اب اس کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے یہ ہم پر منحصر ہے ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں خصوصی طور پر سوشل نیٹ ورک کے استعمال کو ہم کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔وہ مقصد انسانیت کی بھلائی بھی ہو سکتا ہے اور انسانیت کے لیے دکھ تکلیف اور پریشانی کا باعث بھی۔میں نے ذاتی طور پر جب جدید ٹیکنالوجی مختصر سی تحقیق کی کوشش کی تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ گلوبلائزڈ دنیا میں ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو ایک جدید ترین اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔جہاں ہماری روزانہ زندگی کا ہر حصہ کسی نا کسی طرح ٹیکنالوجی سے وابسطہ ہی نہیں بلکہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت بھی ہے۔پرانے دور کے مقابلے میں ہمارے پاس بہتر سہولتیں موجود ہیں جو صرف اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہیں۔زندگی کے کسی بھی شعبہ میں ٹیکنالوجی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا مگر ساتھ ہی میرا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے جہاں مثبت نتایج ہیں وہاں کچھ منفی اثرات بھی ہیں۔جیسے کہ موبائل ٹیکنالوجی کو ہی لیجیے جس کے استعمال سے ہم ہزاروں میل دور رہنے والے اپنے دوست احباب اور پیاروں ست رابطے میں رہتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی موبائل ہی ہے جس کے غلط استعامل سے کئی گھروانے تباہ ہوئے یا تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے۔انٹر نیٹ کی مدد سے ہم نئی چیزین سیکھ سکتے ہیں پڑھ سکتے ہیں مگر اسی انٹر نیٹ کے استعامل سے دنیا میں دہشت گردی کو بھی ہوا دی جاتی ہے۔ایوی ایشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم دنیا کے دور دراز حصوں میں صرف چند گھنٹو ں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں پہلے ایک طویل مدت لگتی تھی۔ہم تمام موجود زرائع استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنی زندگی کو سہل بنا سکیں ٹیکنالوجی سے پہلے ایسا ممکن نہیں تھا چونکہ زرائع محدود تھے۔سوشل نیٹ ورک کے استعامل سے ہم اپنے بچپن کے دوستوں کو اور اپنے رشتہ داروں کو تلاش کر سکتے ہیں اور انکی زندگی میں رونما ہونے والے اہم واقعات کے بارے میں فوری طور پر جان سکتے ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم دنیا بھر میں خاص انفارمیشن اور اپنے پیغامات کو شئیر کر سکتے ہیں جبکہ چکھ ہی عرصہ قبل تک اگر ایک گاؤں میں کسی کی موت واقع ہو جاتی تھی تو دوسرے گاؤں والوں تک یہ خبر ہفتوں بعد ہی پہنچتی تھی۔ زراعت کے میدان میں پروگرسیو ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم دنیا بھر کے انسانوں کی خوراک کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب جدید ٹیکنالوجی کے کچھ منفی اثرات بھی موجودہ سوسائٹی پر پرے ہیں۔جنہیں نذر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر ٹیکنالوجی نے ایک مشکل کو حل کیا ہے تو دوسری مشکل کو جنم دیا ہے۔اب موبائل ہی کو دوبارہ لیجیے ! پہلے لوگ اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے انکے دکھ درد میں حصہ دار بننے خود بانفس نفیس اپنے پیاروں کے پاس کسی نا کسی طرح پہنچ ہی جاتے تھے مگر جدید ٹیکنالوجی نے ان تمام محبتوں اور چاہتوں کو صرف ایک ایس ایم ایس تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔انٹر نیٹ پر آن لائن کھیلوں نے بچوں کو صرف کمپیوٹر تک محدود کر دیا ہے اور بچے فزیکلی کسی مثبت سرگرمی یا کھیل میں شاذونادر ہی حصہ لیتے ہیں جو بچوں کی صحت کے لیے مظہر ہے ۔اسی طرح سوشل نیٹ ورک کے استعمال سے قریبی دوستوں میں دوریاں بڑھ رہی ہیں اور طلاق کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔جس کی وجہ سے سوسائٹی میں رویوں میں سختی آئی ہے اور اخلاقیات نا پید ہوتی جا رہی ہیں۔ایوی ایشن ٹیکنالوجی نے مختلف کمپنیوں کے ملازمین میں انتہائی خطرناک بیماریوں کو جنم دیا ہے اور انکے صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ماحول آلودہ ہوتا جا رہا ہے اور صاف ماھول کو سخت قسم کے خطرات درپیش ہیں۔
میں اپنی مختصر سی تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دو رخ ہیں اس کے ہماری زندگیوں پر انتہائی مثبت اثرات بھی ہیں اور انتہائی منفی اثرات بھی۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کو کس طرح اور کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اگر ہم ٹیکنالوجی کو مثبت کاموں کے لیے استعمال کرینگے تو اسکے نتائج بھی مثبت ہونگے اس کے برعکس اگر ہم جدید ٹیکنالوجی کو ایک کھلونا سمجھتے ہوئے اسے منفی چیزوں کے لیے استعمال کرینگے تو اس کے اثرات لامحالہ منفی ہی ہونگے۔کوئی بھی باشعور انسان ٹیکنالوجی کی ڈولپمنٹ کو مسترد نہیں کر سکتا مگر یہ ڈولپمنٹ مثبت ہونی چاہیے جس سے ہماری موجدہ اور آنیوالی نسلوں پر کوئی منفی اثر نا پڑھ سکے۔ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اپنی آنیوالی نسلوں کو بھی محفوظ کرنا ہے
جدید ٹیکنالوجی نے ہماری سوشل لائف کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیا ہے۔انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال نے ہمیں اپنے اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور یہاں تک کے چلتی پھرتی زندگی میں اپنے موبائل فون تک محدود کر کے رکھا ہوا ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہو رہا۔گو کے انٹر نیٹ اور مختلف سوشل میڈیا پر ہمارے سینکڑوں دوست بن جاتے ہیں مگر ہم قریب سے انکے واقف نہیں ہوتے یہاں تک کے اکثر ہم اپنے ان سوشل سائٹ کے دوستوں کے اصل محل وقوع سے بھی نا بلد ہوتے ہیں۔ہم حقیقت میں لفظ ،،دوست،، کے اصل مہفوم کو سمجھے بغیر ہی سوشل میڈیا کے دوستوں کی لسٹ میں اضافہ کرتے جاتے ہیں یوں ہم اپنے قریبی دوستوں ،ہمدردوں اور پیاروں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی پر شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے بے انتہا استعمال نے ہمارے رویوں میں تبدیلی لائی ہے اور ہمیں اپنی ذات تک محدود کر دیا ہے ۔ہم سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں رابطے رکھتے ہیں مگر اپنے پیاروں اور پڑوسیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔مگر ایک مشہور مصنف اور محقق ،، بالا جی سرینیواسن،، نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے لوگوں کو ایک مقام پر جمع کر دیا ہے انکی تحقیق کے مطابق روزانہ سینکڑوں ملین لوگ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھکر دوسرے کونے میں بسنے والوں سے رابطہ میں رہتے ہیں اپنے کام کے دوران اور کہیں سے بھی گھنٹوں انٹرنیٹ پر صرف کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کے ،، ہم ہزاروں میل دور تو رابطے میں رہتے ہیں مگر اپنے پڑوسیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے،،یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب تو لایا ہے مگر ساتھ ہی قریب رہنے والوں سے دور کر دیا ہے ۔
دوسری جانب ایک امریکن تحقیق میں اس بات کو مسترد کیا گیا ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے لوگوں کو محدود نہیں کیا بلکہ انسان کی سوشل لائف کو وسیع کر دیا ہے ،پو انٹرنیٹ اینڈ امریکن لائف پروجیکٹ،، نے اپنے مطالعہ،، سوشل آئی سولیشن اینڈ نیو ٹیکنالوجی،، میں اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انھوں نے ایسے لوگوں کو تلاش کیا جو موبائل فون اور سوشل نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں وہ سوشل لائف میں زیادہ وسیع نیٹ ورک کے ساتھ وابسطہ ہیں اور منظم بھی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جو لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ وسیع سوشل لائف کے حامل ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بھی انٹرنیٹ کا استعمال خاصہ عام ہے اب اس کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے یہ ہم پر منحصر ہے ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں خصوصی طور پر سوشل نیٹ ورک کے استعمال کو ہم کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔وہ مقصد انسانیت کی بھلائی بھی ہو سکتا ہے اور انسانیت کے لیے دکھ تکلیف اور پریشانی کا باعث بھی۔میں نے ذاتی طور پر جب جدید ٹیکنالوجی مختصر سی تحقیق کی کوشش کی تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ گلوبلائزڈ دنیا میں ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو ایک جدید ترین اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔جہاں ہماری روزانہ زندگی کا ہر حصہ کسی نا کسی طرح ٹیکنالوجی سے وابسطہ ہی نہیں بلکہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت بھی ہے۔پرانے دور کے مقابلے میں ہمارے پاس بہتر سہولتیں موجود ہیں جو صرف اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہیں۔زندگی کے کسی بھی شعبہ میں ٹیکنالوجی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا مگر ساتھ ہی میرا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے جہاں مثبت نتایج ہیں وہاں کچھ منفی اثرات بھی ہیں۔جیسے کہ موبائل ٹیکنالوجی کو ہی لیجیے جس کے استعمال سے ہم ہزاروں میل دور رہنے والے اپنے دوست احباب اور پیاروں ست رابطے میں رہتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی موبائل ہی ہے جس کے غلط استعامل سے کئی گھروانے تباہ ہوئے یا تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے۔انٹر نیٹ کی مدد سے ہم نئی چیزین سیکھ سکتے ہیں پڑھ سکتے ہیں مگر اسی انٹر نیٹ کے استعامل سے دنیا میں دہشت گردی کو بھی ہوا دی جاتی ہے۔ایوی ایشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم دنیا کے دور دراز حصوں میں صرف چند گھنٹو ں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں پہلے ایک طویل مدت لگتی تھی۔ہم تمام موجود زرائع استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنی زندگی کو سہل بنا سکیں ٹیکنالوجی سے پہلے ایسا ممکن نہیں تھا چونکہ زرائع محدود تھے۔سوشل نیٹ ورک کے استعامل سے ہم اپنے بچپن کے دوستوں کو اور اپنے رشتہ داروں کو تلاش کر سکتے ہیں اور انکی زندگی میں رونما ہونے والے اہم واقعات کے بارے میں فوری طور پر جان سکتے ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم دنیا بھر میں خاص انفارمیشن اور اپنے پیغامات کو شئیر کر سکتے ہیں جبکہ چکھ ہی عرصہ قبل تک اگر ایک گاؤں میں کسی کی موت واقع ہو جاتی تھی تو دوسرے گاؤں والوں تک یہ خبر ہفتوں بعد ہی پہنچتی تھی۔ زراعت کے میدان میں پروگرسیو ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم دنیا بھر کے انسانوں کی خوراک کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب جدید ٹیکنالوجی کے کچھ منفی اثرات بھی موجودہ سوسائٹی پر پرے ہیں۔جنہیں نذر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر ٹیکنالوجی نے ایک مشکل کو حل کیا ہے تو دوسری مشکل کو جنم دیا ہے۔اب موبائل ہی کو دوبارہ لیجیے ! پہلے لوگ اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے انکے دکھ درد میں حصہ دار بننے خود بانفس نفیس اپنے پیاروں کے پاس کسی نا کسی طرح پہنچ ہی جاتے تھے مگر جدید ٹیکنالوجی نے ان تمام محبتوں اور چاہتوں کو صرف ایک ایس ایم ایس تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔انٹر نیٹ پر آن لائن کھیلوں نے بچوں کو صرف کمپیوٹر تک محدود کر دیا ہے اور بچے فزیکلی کسی مثبت سرگرمی یا کھیل میں شاذونادر ہی حصہ لیتے ہیں جو بچوں کی صحت کے لیے مظہر ہے ۔اسی طرح سوشل نیٹ ورک کے استعمال سے قریبی دوستوں میں دوریاں بڑھ رہی ہیں اور طلاق کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔جس کی وجہ سے سوسائٹی میں رویوں میں سختی آئی ہے اور اخلاقیات نا پید ہوتی جا رہی ہیں۔ایوی ایشن ٹیکنالوجی نے مختلف کمپنیوں کے ملازمین میں انتہائی خطرناک بیماریوں کو جنم دیا ہے اور انکے صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ماحول آلودہ ہوتا جا رہا ہے اور صاف ماھول کو سخت قسم کے خطرات درپیش ہیں۔
میں اپنی مختصر سی تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دو رخ ہیں اس کے ہماری زندگیوں پر انتہائی مثبت اثرات بھی ہیں اور انتہائی منفی اثرات بھی۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کو کس طرح اور کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اگر ہم ٹیکنالوجی کو مثبت کاموں کے لیے استعمال کرینگے تو اسکے نتائج بھی مثبت ہونگے اس کے برعکس اگر ہم جدید ٹیکنالوجی کو ایک کھلونا سمجھتے ہوئے اسے منفی چیزوں کے لیے استعمال کرینگے تو اس کے اثرات لامحالہ منفی ہی ہونگے۔کوئی بھی باشعور انسان ٹیکنالوجی کی ڈولپمنٹ کو مسترد نہیں کر سکتا مگر یہ ڈولپمنٹ مثبت ہونی چاہیے جس سے ہماری موجدہ اور آنیوالی نسلوں پر کوئی منفی اثر نا پڑھ سکے۔ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اپنی آنیوالی نسلوں کو بھی محفوظ کرنا ہے
صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک۔۔۔۔۔ ؟
تحقیق : کبیر احمد، ناٹنگھم، برطانیہ
ایک صحافی کا کام حقائق کو سامنے لانا ہوتا ہے وہ کسی کا آلہ کار نہیں ہوتا ،نا ہی اسے کسی ایک جانب جھکنا چاہیے،جہاں قلم آزاد ہو وہاں انصاف کا ملنا آسان سمجھا جاتا ہے قلم کی طاقت سے صحافی اپنے ملک کے عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔شرط صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ قلم کے سچے سپاہی ثابت ہوں ،دوسری جانب کسی بھی ملک کی حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ صحافیوں کی جان کو درپیش خطرات کے پیش نظر انھیں مکمل سکیورٹی فراہم کرے۔مگر حالیہ دور میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی بھی حکومت صحافی برادری کو مکمل سکیورٹی دینے میں کامیاب نہیں ہوئی یا پھر اس جانب بھرپور توجہ ہی نہیں دی گئی، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں دنیا نے مختلف ممالک میں بہت ہی قابل صحافیوں کو کھو دیا ہے۔اگر ہم صرف گزشتہ سال کا سرسری جائزہ لیں تو مختلف صحافتی تنظیموں کی جانب سے شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق سال دو ہزار چودہ میں شام صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ثابت ہوا ہے جہاں اسلامک اسٹیٹ کے بندوق برداروں نے صرف ایک سال کے عرصہ میں گزشتہ تین سالوں کی نسبت زیادہ تعداد میں صحافیوں کو قتل کیا ۔جن میں ہر دس میں سے نو مقامی صحافی قتل کیے گئے۔صرف دو ہزار چودہ کے سال میں دنیا میں ساٹھ جرنلسٹس قتل ہوئے۔جبکہ دو ہزار پندرہ کے پہلے تین ماہ میں سترہ جرنلسٹس کو قتل کیا گیا۔صرف شام میں دو ہزار چودہ میں سترہ جرنلسٹس قتل ہوئے جبکہ جب سے شام میں فسادات شروع ہوئے ہیں ٹوٹل ۷۹( نواسی) جرنلسٹس قتل ہو چکے ہیں۔یوں دوہزار چودہ کے رپورٹ میں شام کو جرنلسٹس کے لیے خطرباک ترین ملک قرار دیا گیا ہے تحقیقاتی اداروں ( جن میں نیشنل یونین آف جرنلسٹس ( این یو جے )یو کے، کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس(سی پی جے)کینیڈین ایسوسی ایشن آف جرنلسٹس( سی اے جے)، بی بی سی، حقوق انسانی کی مختلف تنظیموں جن میں پاکستان ہیومن رائٹس اور دیگر کئی آرگنائزشنز شامل ہیں) ۔ نے اپنی اپنی تحقیقاتی رپورٹوں میں کہا کہ کے شام میں اتنی زیادہ تعداد میں صحافیوں کے قتل نے فلپین کو صحافیوں کے لیے خطرناک ممالک کی لسٹ میں دوسرے نمبر پر دکھیل دیا ہے ۔سی پی جے کے رپورٹ کے مطابق یوکرین میں گزشتہ سال پانچ جرنلسٹس جبکہ دو میڈیا ورکرز کو قتل کیا گیا ۔ترکی میں ایک جرنلسٹ قتل ہوا۔جبکہ پاکستان جسے کئی سالوں سے صحافیوں کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جاتا رہا ہے ابھی تک جرنلسٹس کے لیے خطرناک ترین ممالک کی لسٹ میں شامل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قتل ہونے والے جرنلسٹس میں سے سب سے زیادہ تعداد براڈکاسٹ جرنلسٹس کی ہے جبکہ کیمرہ مین اور فوٹوگرافرز کی تعداد دوسرے نمبر پر آتی ہے ۔گزشتہ تین سالوں میں قتل ہونے والے جرنلسٹوں میں نصف سے زیادہ صرف دوہزار چودہ میں قتل ہوئے۔انٹرنیشنل فڈریشن آف جرنلسٹس نے بھی اپنے رپورٹ میں ان تمام رپورٹس کی تصدیق کی ہے۔جس میں انھوں نے پاکستان میں ایکسپریس ٹی وی کے قتل ہونے والے وقاص عزیز، خالد خان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس موقع پر پولیس نے سترہ فائرڈ بولٹ دریافت کیے ۔روزنامہ زمان کوئٹہ کے افضل خواجہِ، روزنامہ محاسب کے فوٹو گرافر، ابرار تنولی، ایک ٹی وی پرزنٹر کے ڈرائیور محمد مصطفی،سما ٹی وی کے شہزاد اقبال،اے آر وائی کوئٹہ کے ارشاد مستوئی،دنیا نیوز کے یعقوب شہزاد،دھرتی ٹی وی کے جیون آرائیں کے قتل کا خصوصی ذکر کیا ۔
رپورٹ کے مطابق دو ہزار چودہ میں زیادہ تر صحافیوں کو دنیا کے ایسے خطوں میں قتل کیا گیا جو جنگ زدہ علاقے ہیں، افغانستان، یوکرین اور وسط ایشیا کو بھی صحافیوں کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ممالک جو جنگ زدہ ہیں اور کنفلکٹ کا شکار ہیں وہاں مغربی صحافیوں کو زیادہ تر ٹارگٹ کیا گیا ہے جن میں سے اکثر انٹرنیشنل پریس کے باقاعدہ ممبران تھے۔دو ہزار چوہدرہ میں دنیا کے مختلف ممالک میں ساٹھ صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔جن میں سے صرف شام میں سترہ صحافیوں کا قتل ہوا۔جبکہ جب سے شام میں فسادات شروع ہوئے اس وقت یعنی دو ہزار گیارہ سے دو ہزار چوہدرہ تک شام میں ٹوٹل ۷۹ جرنلسٹس قتل ہو چکے ہیں۔ اس طرح شام کو صحافیوں کے لیے دنیا کا خظرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے جبکہ فلپین دوسرے نمبرپرہے۔یوکرین میں دو ہزار ایک کے بعد گزشتہ سال پانچ جرنلسٹس اور دو مےٖیا سے وابسطہ دیگر افراد کا قتل ہوا جو اس تمام عرصہ میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔ترکی میں میڈیا سے وابسطہ پہلا کارکن قادر بغدو جو کے پرو کردش گردانا جاتا تھا گزشتہ سال قتل ہوا۔جبکہ دس صحافیوں کو انٹی اسٹیسٹ قرار دیکر جیلوں میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔کمیٹی تو پروٹکٹ جرنلسٹس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں گزشتہ تین سالوں کو دنیا بھر میں جرنلسٹس کے لیے افسوسناک قرار دیا ہے۔
دو ہزار چودہ میں مارے جانے والے صحافیوں میں سے نصف وسط ایشیا میں مارے گئے جن میں سے اڑتیس فیصدکراس فائر کا نشانہ بنے۔سب سے زیادہ وہ صحافی قتل ہوئے جن کا تعلق براڈکاسٹ جرنلازم سے تھا۔پینتیس فیصد فوٹو فراگر اور ستایس فیصد کیمرہ مین قتل ہوئے۔
کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس کی ایک دوسری رپورٹ جس کی تصدیق انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے بھی کی ہے کہ مطابق چین دینا کا وہ ملک ہے جس مین سب سے زیادہ جرنلسٹس جیلوں میں ہیں۔جہاں دو سو سے زیادہ جرنلسٹوں کو جیلوں میں بند کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق دو ہزار چودہ میں دنیا میں دو سو اکیس صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا جن میں سے دو سو صرف چین میں گرفتار ہوئے۔ان میں سے اکیس ایسے ہیں جنہیں انٹی اسٹیٹ قرار دیا گیا ہے۔جبکہ ایران میں دس صحافی جیلوں میں بند ہیں ۔رپورٹ کے مطابق آریٹریا،اتھوپیا،ویتنام، شام ،مصر،برما،آزربئجان اور ترکی دنیا کے ایسے دس سرفہرست ممالک میں شامل ہیں جہاں صحافیوں کو جیلوں میں پابند سلال کیا گیا ہے۔ان گرفتار صحافیوں کی لسٹ میں صرف ایسے صحافی شامل ہیں جو کسی بھی حکومتی طویل میں ہے جبکہ وہ شامل نہیں جو کسی بھی دوسرے گروپ کی طویل میں ہیں۔آریٹریا اس لسٹ میں تیسر نمبر پر ہے جہاں تہیس صحافی گرفتار ہیں۔رپورٹ کے مطابق گرفتار شدہ صحافیوں میں سے ایک سو بتیس یا ساٹھ فیصد کو انٹی اسٹیٹ قرار دیکر جیلوں میں مبحوس کر دیا گیا ہے۔اس رپورٹ سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی صحافیوں کو مکمل سکیورٹی اور تحفظ حاصل نہیں
یوں تو کہا جاتا تھا کہ مغرب میں صحافی آزاد ہیں اور انھیں مکمل تحفظ حاصل ہے مگر اس سال کے آغاز پر ہی فرانس میں ایک جریدے پر حملے نے جس میں ایک درجن سے زیادہ بڑے صحافیوں اور دیگر افراد کو قتل کیا گیا کے بعد اب لگتا ہے کہ یورپ میں بھی صحافیوں کو وہ تحفظ حاصل نہیں جس کی انھیں ضرورت ہے۔
دنیا بھر میں قائم حکومتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نا صرف اپنے صحافیوں کو بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ایسے جرنلسٹس کو بھی جو اس ملک میں اپنے صحافتی فرائض انجام دے رہے ہیں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں صحافی مختلف اداروں اور دہشت گردوں کے لیے سینڈوچ بنے ہوئے ہیں ،حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صرف اپنے من پسند صحافیوں کو ہی نہیں بلکہ تمام صحافتی برادری کو سکیورٹی اور مکمل تحفظ فراہم کرے ،دوسری جانب صحافتی برادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قلم اور اپنے پیشہ کو صرف حق اور سچ عوام کے سامنے لانے کے لیے استعمال کریں دوسروں کے اہلکار نا بنیں ، قلم کی حرمت کا پاس رکھیں ۔
یاد رکھیے اگر ایک صحافی حق اور سچ کی راہ پر چلتا ہے وہ اپنے فرائض منصبی بطریق احسن انجام دے رہا ہے تو وہ اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے یوں ایک سچا صحافی دنیا بھر میں قیام امن کے لیے وہ تمام کام صرف اپنے قلم سے آسانی سے کر سکتا ہے جو ایک بڑی جدید اسلحہ سے مسلح طاقتور فوج بھی نہیں کر سکتی۔اگر دنیا بھر کی حکومتیں اپنے صحافیوں کو مکمل تحفظ دیں انھیں غیر جانبدار رہتے ہوئے آزادی سے کام کرنے دیں تو صحافی برادری دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔
جمعہ، 10 اپریل، 2015
جمہوریت اور ووٹ
جمہوریت میں ووٹ تبدیلی کی علامت ہوتا ہے جب کسی جمہوری معاشرے کے عوام ووٹ دیتے ہیں تو اسکی اہمیت ہوتی ہے گویا ووٹ کا بیلٹ پیپر ووٹ دالنے والے کے ضمیر کی آواز ہوتی ہے جس امیدوار کو ووت دیا جاتا ہے وہ اپنے ووٹر کے ضمیر کی آواز کی حفاظت کرتا ہے۔یہ سب صرف حقیقی جمہوری معاشرے میں ہوتا ہے جہاں ووٹ برادری، قبیلے یا علاقے کو دیکھ کر نہیں دیا جاتا بلکہ انتخابی منشور اور عوامی ضرورت کو دیکھ کر دیا جاتا ہے۔مگر ہمارے معاشرے میں یہ ریت ابھی تک تو اپنائی نا جا سکی اور جس راستے پر ہمارے سیاستدان قوم کو لے جا رہے ہیں فلحال جلدی کوئی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے۔چونکہ ہمارے معاشرے میں ددٹ تو ووٹر دیتے ہیں کبھی قبیلہ ازم کے بنیاد پر ،کبھی علاقہ ازم اور کبھی برادری ازم کی بنیاد پر ۔ہم کبھی بھی کسی منشور یا عوامی ضرورت کو مدنظر نہیں رکھتے چونکہ ماما جی، تایا جی، کزن، نمبردار صاحب، چوہدری صاحب، راجہ صاحب ، خواجہ صاحب یا سردار صاحب ہمارے امیدوار ہوتے ہیں،جس کی اپنے علاقے میں زیادہ بدقماشی ہوتی ہے وہ الیکشن جیت کر لوٹ کسھوٹ میں لگ جاتا ہے۔ہم خود اسے یہ لائسنس دے دیتے ہیں کہ پانچ سال کے لیے آپ ہمارے حقوق کے ڈاکو ہو۔دوسری جانب چونکہ فیصلہ عوام کے ووٹ کی طاقت سے نہیں بلکہ ایک خوبصورت بریف کیس کی طاقت سے ہوا ہوتا ہے جس کی جگہ آنیوالے وقت میں کئی بریف کیسوں نے لینی ہوتی ہے لہذا عوام کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ لائن میں لگیں اور اپنی پرچی ڈبے میں ڈال کر چلے جائیں۔
خدا خبر ہمارے معاشرے کے سادہ لوح عوام اپنی اس چھوٹی سی پرچی کی اہمیت کو کب سمجھ سکیں گے اس پرچی کو اپنے ضمیر کی آواز کب بنا سکیں گے۔ انکے لیڈر کب انکے ضمیر کی آواز کے محافظ بنیں گے۔وہ وقت کب آئے گا جب طاقت صرف پرچی کی ہو گی بریف کیس کی نہیں۔یہ سوچنا شاہد انھیں کا کام ہے جو پرچی تو ڈال دیتے ہیں مگر انکے ضمیر کی آواز کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔کیا ہم کبھی یہ سوچنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ ووٹ کا استعمال تبدیلی کے لیے دیا جائے اور وہ تبدیلی چہروں کی تبدیلی نا ہو بلکہ کرپٹ نظام کی تبدیلی کے لیے ہو ،قبیلائی ازم، علاقائی ازم اور برادری ازم سے چھٹکارے کے لیے ہو۔عوامی مسائل کے حل کے لیے ہو،بہتر تعلیمی سہولتوں کے حصول، اور بہتر علاج معالجہ کی سہولت کے حصول کے لیے ہو۔اور عوام کے ضمیر کی آواز کی حفاظت کرنے والے ہی عوامی نمائندے ہوں،یہ تنھی ہو سکتا ہے جب عوام بیرونی آقاؤوں کے چرنوں کو چھونے والوں اور بیرونی آقاؤوں کے اشاروں پر ناچنے والوں کر مسترد کرینگے اور اپنا فیصلہ خود کرینگے۔
پیر، 6 اپریل، 2015
حق بات
سیاست کرنا کوئی بری بات نہیں اگر حق بات پر کی جائے تو یہ ایک عبادت بھی ہے سیاست کا اصل مطلب یہی ہے کہ ایسی سرگرمیاں جنکے ذریعے معاشرے اور قوم میں بہتری آئے،مختلف عوامی ،علاقائی ،قومی اور بین الاقوامی مسائل پر بحث مباحثہ ہو ہو اس کے ذریعے عوامی مسائل کا حل تلاش کیا جائے،بری بات یہ ہے کہ سیاست کے ساتھ ،، سیاست ،، کی جائے۔یعنی لچھیدار تقریروں اور چھوٹے وعدوں کے ذریعے عوام کو سبز باغ دکھائے جائیں اور عوام کی بہتری نہیں بلکہ سیاستدان صرف اپنی بہتری کا خواہ ہاں ہو۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں سیاست کے ساتھ ،،سیاست ،،کی جاتی ہے۔ایک سیٹ کے حصول کے لیے اور دوسرے مدمقابل کو نیچا دکھانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں نامی گرامی انسانوں کو خریدا اور بیچا جاتا ہے، تاکہ ایک صاحب کی بلے بلے اور جئے جئے ہو جائے، یہ نہیں سوچا جاتا کہ اگر یہی کروڑوں روپیہ عوامی مسائل کے حل پر خرچ کر دیا جائے تو وہ سیٹ ویسے ہی پکی ہو جاتی ہے چونکہ ہمارے معاشرے کے سادہ لوح عوام اگر بغیر مسائل کے حل کے بھی کسی صاحب کو ہمیشہ اپنا مسیحا مانتے ہیں تو جب وہ کوئی چھوٹا موٹا کام اس علاقے کے عوام کی بھلائی کے لیے کروا دیگا تو پھر تو وہ کچھ اور ہی بن جائے گا۔ مگر نہیں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی،چونکہ جنگ صرف کرسی کی ہوتی ہے ،عوام کو قبیلوں اور برادریوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ اجتماعی طور پر اپنے مسائل کی جانب کوئی توجہ ہی نا دے سکیں اور صاحب اپنی موج مستی میں لگے رہیں۔وہی بڑے صاحب جو اپنے آپکو عقل قل سمجھتے ہیں اوردوران الیکشن اپنے عوام کے سامنے اپنے آپکو انکا مسیحا بنا کر پیش کرتے ہیں جب الیکشن جیت کر جس میں عوام نے ووٹ تو ڈالے ہوتے ہیں مگر سودہ پہلے سے ہو چکا ہوتا ہے وہ صاحب جب اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں تو اپنے ووٹر سے آئندہ تک کے لیے انکا کوئی تعلق نہیں رہتا وجہ یہ ہوتی ہے کہ چونکہ انھوں نے کروڑوں خرچ کیے ہوتے ہیں عرصہ مختصرہوتا ہے جس میں اصل رقم ہی نہیں بلکہ سود سمیت کمانا ہوتا ہے پھر ان سب کو بھی راضی کرنا ہوتا ہے جنہوں نے صاحب کے کامیابی کے لیے محنت کی ہوتی ہے لوگوں کو صاحب کے حق میں جئے جئے کے نعرے لگوانے کے لیے سڑکوں پر لایا ہوتا ہے آخر انکی بھی محنت ہے پھل تو ملے گا ہی نا اور یہ پھل ہمارے معاشر میں صرف سیاست میں ہی ملتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشر میں لوگ سیاست میں کافی محنت کرتے ہیں۔عوام سے جھوٹے وعدے کرنا انکی عادت بن چکی ہے،سیاست کے ساتھ،، سیاست،، انکا پسندیدہ کھیل ہے،جب اچھے کھلاڑی بن جاتے ہیں تو پھر اپنی منہ مانگی قیمت وصول کر لیتے ہیں گویا انھیں انکی محنت کا پھل مل گیا،جب ہم کسی جانور کو بڑے پیار سے پالتے ہیں تو اسے فروخت کرتے وقت اسکی قیمت ہم خود لگاتے ہیں چونکہ وہ جانور بے زبان ہوتا ہے،چلو یہ کم از کم اپنی قیمت تو خود لگا دیتے ہیں،ہمارے سیاسی لیڈر سیاست، سیاست کھلتے ہیں عوام تماشائی ہوتے ہیں کھلاڑیوں کو خوب داد دیتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے لیے اپنی جان بھی دے دیتے ہیں ان بیچاروں کا کام ہی بس داد دینا اور جانیں دینا ہوتا ہے، اور جس سیاسی کھلاڑی کا مکاری، جھوٹ فریب،وعدہ خلافی میں زیادہ تجربہ ہوتا ہے جو ماہر مکار ہوتا ہے وہ میچ جیت جاتا ہے اور عوام جو صرف تماشائی ہوتے ہیں اسے داد دیکر واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں چونکہ کھیل تو ختم ہو گیا ان بچاروں نے صبح پھر دیہاڑی لگانی ہے تاکہ شام کو بچوں کا پیٹ بھر سکیں،پھر وہی معمول ،اور آئندہ کے لیے کسی نئے تجربہ کار کھلاڑی کا انتظار ، جو نئے منصوبے لیکر میدان میں اترے گا،یہی عوام پھر اسکے بلے بلے اور جئے جئے کے نعرے لگائیں گے،وہ تماشہ لگائے گا عوام کا دل بھلائے گا اور اپنا مقصد پورا کر کے چلا جائے گا، ،، آخر کب تک ؟،،
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
